ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کنداپور: گولڈ اسکیم کے نام پر سیکڑوں افراد کے ساتھ دھوکہ دہی۔ دو ملزمین گرفتار

کنداپور: گولڈ اسکیم کے نام پر سیکڑوں افراد کے ساتھ دھوکہ دہی۔ دو ملزمین گرفتار

Tue, 16 Mar 2021 23:50:12    S.O. News Service

کنداپور،16؍ مارچ (ایس او نیوز) گولڈ انویسٹَمنٹ منتھلی کیش اسکیم کے تحت  ہر مہینہ آمدنی کا تیقن دینے والی جیویلری کمپنی پر الزام لگایا جارہا ہے کہ اس نے سیکڑوں لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور ان کے کروڑوں روپے نقد ڈّوبنے اور سونے کے زیورات نیلام ہونے کی نوبت آ گئی ہے۔

کیا تھی یہ اسکیم؟: ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اسکیم یہ تھی کہ لوگ اپنے سونے کے زیورات کمپنی کے پاس جمع کریں یا  سونا خریدنے کے لئے ماہانہ قسطوں میں ایک مخصوص رقم جمع کروائیں یا پھر ایک بڑی رقم ایک ساتھ کمپنی کے پاس جمع کریں تو ان کو ایک لاکھ روپے پر ہر مہینہ 2 سے 3 ہزار روپے آمدنی دی جائے گی اور میعاد ختم ہونے پر ڈپازٹ رکھے گئے زیورات واپس ملیں گے یا پھر سونا خریدنے کے لئے رقم جمع کرنے والوں کو سونا مل جائے گا۔ 

کہاں تک پھیلا تھا یہ جال: معلوم ہوا ہے کہ اس اسکیم کے لالچ میں آ کر لوگوں نے ایک لاکھ سے دس لاکھ روپے تک اس میں لگا دئے۔ لوگوں نے اپنے سونے کے جو زیورات کمپنی کے پاس جمع کروائے اس کی مقدار 10.5 کلو گرام اور نقد رقم 8 کروڑ روپے ہے۔ بیرونی ملکوں میں مقیم لوگوں کے علاوہ کنداپور، اڈپی، ونڈسے، گنگولی، ہیماڈی، ناوندا، اپوندا، ہوڈے، کوٹیشور، ساگر تیرتہلّی وغیرہ کے تقریباً 400 گھروں کے افراد نے اس اسکیم میں پیسہ یا سونا لگایا تھا۔ کمپنی کے طرف سے گھر گھر جا کر رقم یا سونے کے زیورات وصول کرنے کا سسٹم اپنایا گیا تھا۔ اور یہ سلسلہ تین  چار  سال سے  چل رہا تھا۔

زیورات پرفائنانس کمپنی سے قرضہ: گولڈ اسکیم کمپنی کے مالکان نے لوگوں سے زیورات لے کر انہیں فائنانس کمپنیوں میں گروی رکھا تھا اور اس پر قرضہ حاصل کیا تھا۔ لیکن جب یہ قرضہ کمپنی نے واپس نہیں کیا تو فائنانس کمپنی والوں نے قرضہ کی بازیابی کے لئے زیورات نیلام  کرنے کے نوٹس زیورات کے مالکان کو بھیجے۔ زیورات مالکان سے مطالبہ کیا گیا کہ چونکہ کمپنی نے گزشتہ ایک سال سے قرضہ ادا نہیں کیا ہے، اور ان کے چیکس باونس ہوگئے ہیں اس لئے وہ لوگ یہ رقم ادا کریں ورنہ زیورات نیلام کردئے جائیں گے۔

زیورات نیلامی کا نوٹس: فائنانس کمپنی کے نوٹسوں سے پریشان لوگ گولڈ اسکیم چلانے والی جیویلری شاپ کے سامنے جمع ہوگئے اوراپنے زیورات اور رقم کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ کمپنی کے مالکان نے حساب بے باق کرنے کا وعدہ تو کیا مگر اب تک اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

پارٹنر کے گھر کےسامنے ہجوم: یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کچھ دنوں قبل گولڈ اسکیم کمپنی کے بیرون ملک رہنے والے ایک پارٹنر کے گھر کے سامنے بھی لوگ جمع ہوگئے تھے اوراپنی رقم اور زیورات واپس دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس نے رقم یا زیورات واپس کرنے کے سلسلے میں تو کوئی اقدام نہیں کیا، لیکن اپنے گھر والوں کو وہاں سے منتقل کردیا۔

پولیس سے شکایت اور دو ملزمین گرفتار: بالآخر 15مارچ کو متاثرہ مرد اور خواتین کا ایک ہجوم کنداپور پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوگیا اور اپنے دستاویزات دکھاتے ہوئے اپنے زیورات واپس دلانے اورگولڈ اسکیم چلانے والے افراد کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے کمپنی کے مالکان اور ملازمین  کے خلاف کیس درج  کرلیا ہے جس میں 24 ملازمین کو نامزد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی کے منیجر جعفر کنڈلور اور اکاونٹنٹ فراز ماوین کٹّے کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

پولیس نے کس خلاف کیس درج کیا؟: کندا پور پولیس نے جن لوگوں کے خلاف کیس درج کیا ہے اس میں گرفتار شدہ دو ملزمین سمیت محمد افتخار جوُمّی کنڈلور، مومن یوسف علی بھٹکل، گنیش شیٹی مولہلّی، خطیب عبدالرحمٰن بھٹکل  کے علاوہ آصف کے، نذیر احمد، ،حمد مشرف، محمد آصف، محمد نوریس، ایس زینت، بیٹّے باشاہ، بیٹّے اکبر، بشیر احمد، کے منیر، عرفات محمد، محمد فائز، سردار نوید اکبر، نوشاد ، محمد فارس، بی بانو، نسیمہ اور وحیدہ کے نام شامل ہیں۔

فائنانس کمپنی کو نوٹس: چونکہ یہ کروڑوں روپے مالیت کے زیورات کا معاملہ ہے۔ اس لئے پولیس کی طرف سے فائنانس کمپنی کو زیورات نیلام نہ کرنے کی نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ مالی دھوکہ دہی والی اسکیم  اگر معاملہ 50 لاکھ روپوں سے زیادہ کی ہے تو یہ معاملہ معاشی جرائم کے شعبہ کے تحت آتا ہے۔  اور اگر معاملہ ایک کروڑ سے زائد کا ہے تو پھر اس میں انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کو سونپا جاتا ہے۔ لہٰذا اگر پولیس کی طرف سے نوٹس دے کر نیلامی روک دی جاتی ہے تو پھر گولڈ اسکیم کمپنی کو قرضہ ادا کرکے زیورات واپس لینے اور متعلقہ مالکان کو واپس لوٹانے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔

افسوس کی بات ہے: بہر حال افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی دھوکہ دہی اور فریبی اسکیموں کے کہانیاں بار بار سامنے آنے کے بعد بھی آسان طریقے سے پیسے کمانے کے لالچ میں لاکھوں روپے گنوانے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ صرف مقام اور لوگوں کے نام بدل جاتے ہیں اور فریبی ذہن اپنا کارروائیاں مسلسل انجام دیتے جارہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سونے والوں کو تو جگایا جا سکتا ہے مگر جاگنے والے ہی بے ہوشی کا مظاہرہ کریں تو کون کیا کر سکتا ہے۔


Share: